بنگلورو،4؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) یہاں متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ ڈیتھ نوٹ میں اروند لمباولی کے نام کا ذکر کرنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ پولیس اس کیس میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کرے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایم ایل اے کو گرفتار کرے ورنہ ثبوت تباہ کئے جاسکتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف نے پارٹی کے لیڈروں سرجے والا اور سابق وزیر داخلہ راملنگا ریڈی کے ساتھ متاثرہ پردیپ کے گھر جاکر گھر والوں سے ملاقات کی۔ سدارامیا نے کہا کہ بدعنوانی کی وجہ سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “سنتوش پاٹل کیس میں بھی کے ایس ایشورپا کا نام تھا، لیکن انہیں تین ماہ کے اندر کلین چٹ دے دی گئی۔ پولیس کو کارروائی کرنی چاہئے اور پردیپ کو انصاف ملنا چاہئے۔
خیال ر ہے کہ تاجر پردیپ اتوار کی شام بنگلورو کے نزدیک نیتیگیرے میں اپنی کار میں مردہ پائے گئے تھے۔ پولیس نے کہا کہ اس نے مبینہ طور پر خود اپنے سر میں گولی ماری ہے اور آٹھ صفحات پر مشتمل موت کا نوٹ ملا ہے جس میں لمباولی اور پانچ دیگر افراد کے نام ہیں۔ پولیس نے پردیپ کی بیوی کی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ اس میں کے گوپی، سومیا، جی رمیش ریڈی، جیرام ریڈی اور راگھو بھٹ کے نام بھی ہیں۔
پرساد اور پردیپ کچھ ایسے لوگ ہیں جو بی جے پی کی بدعنوان حکمرانی کی وجہ سے مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ موت کے معاملات میں بی جے پی لیڈروں کے نام کیوں آتے ہیں۔ بدعنوانی کی وجہ سے موت کے ایسے واقعات ہو رہے ہیں۔ حکومت کو پردیپ کی موت میں شامل لوگوں کو سزا دینی چاہیے۔
خیال رہے کہ کرناٹک کے تاجر پردیپ نے ایم ایل اے لمباولی سمیت چھ لوگوں پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے موت کا نوٹ لکھنے کے بعد مبینہ طور پر خود کو گولی مار لی تھی۔